Sunday, 31 May 2015

معاویہ کا دعویٰ میں عمر بن خطاب سے زیادہ حق دار خلافت ہوں




















ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں حفصہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے گیسووں سے پانی ٹپک رہا تھا، میں عرض گزار ہوا کہ لوگوں نے خلافت کے بارے میں جو کچھ کیا وہ آپ ملاحظہ فرمارہی ہیں، اگر چہ مجھے بذات خود خلافت میں کچھ دلچسپی نہیں ہے ، فرمایا تم لوگوں سے جاکر ملو وہ تمہارا انتظار کررہے ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ تمہارے نہ جانے کے باعث ان میں نا اتفاقی نہ ہوجائے ، پس ان کے حکم کی تعمیل میں انھیں جانا پڑا، جب لوگ منتشر ہوگئے تو معاویہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ جو خلیفہ بننے کا ارادہ رکھتا ہو وہ ہمارے سامنے بات کرے کیوں کہ ہم اس سے بلکہ اس کے باپ سے بھی زیادہ حق دار ہیں۔ حبیب بن مسلمہ نے (ابن عمر) سے کہا ، آپ نے انہیں(معاویہ) جواب کیوں نہیں دیا؟ عبداللہ بن عمر نے کہا میں جواب دینا چاہتا تھا اور میرا یہ کہنے کا ارادہ ہوا کہ آپ سے خلافت کا وہ زیادہ مستحق ہے جو اسلام کی خاطر آپ سے اور آپ کے باپ سے جنگ کرچکا ہے لیکن میں ڈرا کہ بات کہنے سے مسلمانوں کے اتحاد کو تفصان پہنچے گا اور خون بہےگا پس میں اس ثواب کو یاد کرکے خاموش رہا جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیار کیا ہوا ہے، حبیب بن مسلمہ نے کہا واقعہ آپ نے مسلمانوں کو فساد سے محفوظ رکھا اور خونریزی سے بچالیا ہے۔





























نتیجہ روایت:  اسی کو کہتے ہیں حب علی ع نہیں بغض معاویہ روایت سے بہت واضح طور پر معاویہ نے عبداللہ بن عمر اور ان کے باپ ہر طنز کیا کہ میں ابن عمر اور عمر سے زیادہ حق دار خلافت ہوں تو ابن عمر کہنا چاہتے تھے کہ حضرت علی ع معاویہ سے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ انہوں نے معاویہ اور اس کے باپ ابوسفیان سے اسلام کی خاطر جنگ کی، ایک طرف معاویہ کے جملے نے عمر کی عظمت کا پول کھول دیا تو دوسری طرف ابن عمر نے معاویہ اور ابوسفیان کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو اتار کر ان کے کفر کا واضح طور پر اعلان کردیا اور ساتھ ہی ساتھ اقرار کرلیا کہ حضرت علی ع ہی حق دار خلافت تھے مگر افسوس یہ اس وقت کہا جب ان پر اور ان کے باپ پر چوٹ کی گئی ، کاش ! یہ اس حقیقت کا اظہار بعد وفات رسول ﷺ کردیتے تو اس کی نوبت ہی نہ آتی کہ معاویہ ان کے باپ کی حقیقت بتاتا

عائشہ اور حدیث رسولﷺ: وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنے امور عورت کے سپرد کردئیے





















ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے ایک کلمہ (ارشاد گرامی) نے جنگ جمل میں بڑا فائدہ پہنچایا جو میں نے آپ ﷺ سے سنا تھا حالانکہ میں جمل والوں (یعنی افواج عائشہ) میں شال ہوکر فریق ثانی سے لڑنے والا تھا وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس (ایران والوں) نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنالیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنے امور عورت کے سپرد کردئیے۔





نتیجہ روایت: کیا انتظام قدرت ہے کہ خود عائشہ کے طرفدار کا کہنا ہے کہ میں عائشہ کی طرف سے حضرت علی ع سے لڑنے کےلئے نکلا تھا مگر مجھے حدیث پیغمبر ﷺ یاد آگئی کہ عورت کی قیادت میں چلنے والے نجات نہیں پاسکتے۔ کاش دوسرے اصحاب عائشہ بھی اس حدیث کے ذریعہ حقیقت قیادت عائشہ کو سمجھ لیتے اور کاش خود عائشہ ان حدیثوں سے نہ سہی جو حدیث انہیں حواب اور بصرا میں یاد آئی تھی کم سے کم اسی حدیث کے سبب پیچھے ہٹ جاتیں کیوں کہ اس حدیث سے صرف عائشہ ہی نہیں اہل لشکر بھی نقصان میں رہے یہی ثابت ہوتا ہے۔

عبداللہ بن عمر بن خطاب اور یزید (لعنتہ اللہ) کی وکالت




















ایوب کا بیان ہے کہ نافع نے کہا کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو ابن عمر نے اپنے ساتھیوں اور لڑکوں کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر دغا باز کےلئے قیامت کے روز ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور بے شک ہم نے اس آدمی(یزید) کے ہاتھ پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کےلئے بیعت کی اور میں نہیں جانتا کہ اس سے بڑھ کر کوئی دھوکا بازی ہوکہ کسی آدمی کے ہاتھ پر بیعت کی جائے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہے پھر اس کے ساتھ لڑنے کی ٹھانی جائے اور میں نہیں جانتا کہ تم میں سے جو شخص اس کی بیعت توڑے گا یا کسی دوسرے سے بیعت خلافت کرے گا، مگر میرے اور اس کے درمیان جدائی کا فاصلہ ہے۔








































نتیجہ روایت:  اس روایت کے آئینہ میں امام بخاری اور عبداللہ بن عمر دونوں کا چہرا بہت ہی واضح ہوجاتا ہے، امام بخاری نے اس روایت کو لکھ کر اور عبداللہ ابن عمر نے یزید کی وکالت کرکے اپنے یزیدی ہونے کا کھلا ہوا اعلان کردیا رہی بات ابن عمر کی حدیث رسول ﷺ سنانے کی تو نبی ﷺ نے جن بیعت توڑنے والوں کی مذمت کی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود عبداللہ کے باپ عمر ہیں اور وہ اصحاب رسول ﷺ جنہوں نے غدیر میں مولا علی ع کے ہاتھوں پر کی گئی بیعت کو توڑ کر سقیفہ میں بیعت ابوبکر کرلی۔

Friday, 29 May 2015

اللہ اپنا پاوں جہنم میں ڈال دے گا معاذاللہ


























ابوہریرہ مرفوعا روایت کرتے ہیں جبکہ ابوسفیان راوی  اسے اکثر موقوضاً روایت کیا کرتے تھے کہ جہنم سے کہا جائے گا کیا تو بھر گئی ؟ وہ عرض کرے گی کیا اور بھی ڈالنے ہیں؟۔۔ پس اللہ تبارک تعالیٰ اس پر اپنا قدم رکھ دیگا اور وہ کہے گی بس بس۔۔








































نیتجہ: اللہ معاف کرے یہ روایت لکھتے ہوئے بھی ہم جیسوں کا قلم کانپتا ہے مگر واہ رے امام بخاری اور واہ رے ابوہریرہ ! کس مزے کے ساتھ اللہ کے قدم کو جہنم میں پہنچا دیا۔ آپ اندازہ لگائیے کہ اس روایت میں جسم خدا بھی ثابت کردیا اور یہ بھی ثابت کردیا کہ اس جسم کا مقصد جہنم کی بھوک مٹانا ہے۔ میں (سید عباس نقوی) سمجھتا ہوں کہ اگر ان افراد نے اور کچھ نہ بھی کیا ہوتا تب بھی صرف یہی روایت ان کو دوزخ کی سیر کرانے کےلئے کافی ہے۔

صحیح بخاری: عمر کی گواہی کہ رسول اللہ ص نے ابوبکر کو خلیفہ نہیں بنایا تھا۔

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ عبد اللہ بن عمر نے فرمایا کہ عمر سے کہا گیا ، آپ اپنا جانشین کیوں مقرر نہیں فرماتے؟ فرمایا کہ اگر میں خلیفہ مقرر کردوں گا تو ابوبکر جو مجھ سے بہتر تھے وہ خلیفہ مقرر کرگئے تھے اور اگر میں خلیفہ مقرر نہ کروں تو مجھ سے جو بہتر تھے یعنی رسول اللہ ص انہوں نے خلیفہ مقرر نہیں فرمایا تھا، پھر لوگ ان کی تعریف کرنے لگے تو فرمایا یہ رغبت اور ڈر سے ہے، میں تو چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں برابری کی سطح پر چھٹکارا پا جاوں ، نہ ثواب ملے نہ عذاب، لہذا زندگی میں یا بعد وفات کیوں اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھاوں۔

نتیجہ: وہ افراد اس روایت کو غور سے پڑھیں جو ابوبکر کی خلافت کا ذمہ دار رسول اللہ ص کو بتاتے ہیں، بہت وضاحت سے عمر ابن خطاب نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ابوبکر کو رسول اللہ ص نے خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا۔ ہاں انہوں نے یہ اقرار ضرور کیا کہ ان کو (یعنی خود عمر) کو ابوبکر نے نام زد کیا تھا۔ لیکن خود عمر کسی کو نام زد اس لئے نہیں کرنا چاہتے تھے کہ نام زد کرنا ابوبکر کی سنت ہے اور خلیفہ نام زد نہ کرنا رسول ص کی سنت ہے۔ اب کیا کہئے گا ابوبکر اور عمر کون بہتر ہے جو سنت رسول ص کی مخالفت کرے وہ یا پھر جو مطابقت کرے؟ ہماری نظر میں تو دونوں نے مخالفت سنت رسول ص کی ہے۔ ابوبکر نے عمر کو خلیفہ بنا کر خلاف سنت عمل کیا تو خود عمر نے سقیفہ میں ابوبکر کو خلیفہ بنوا کر خلاف سنت عمل کیا۔ حیرت کی بات ہے جو خلاف سنت ہوں وہی اہل سنت کے رہنما ہیں۔

صحیح بخاری: معاذ اللہ رسول ص نے ظہر کی چار رکعتوں کے بجائے پانچ پڑھادیں۔







































نتیجہ: معاذ اللہ رسول ص کا رکعتیں بھول جانا چار کی پانچ پڑھانا، یہ سب ایک سازش کے تحت ہے حقیقیت یہ ہے کہ کوئی اور (معاویہ ابن ابو سفیان) جمعہ کی نماز بدھ کو پڑھا رہا تھا تو ضروری تھا کہ منافق کی غلطی کو صحیح کرنے کےلئے رسول ص سے غلطی کرائے جائے(یعنی ایسی غلطی رسول ص کی طرف بھی منسوب کی جائے)

صحیح بخاری: رسول ص ظہرین اور مغربین ملا کر پڑھتے تھے۔














































نتیجہ: ہمارے(شیعوں کے) اوپر ایک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کے یہاں ظہر و عصر اور مغرب و عشا ملا کر پڑھی جاتی ہے ۔ تو اعتراض کرنے والے صحیح بخاری کی اس روایت کو پڑھنے کے بعد رسول ص کےلئے کیا کہیں گے۔ یا ہم (شیعہ) رسول ص جیسی نماز پڑھتے ہیں یا رسول ص شیعوں جیسی نماز پڑھتے تھے۔

صحیح بخاری: جس طرح چاند دیکھائی دیتا ہے۔ ویسے ہی اللہ دیکھائی دے گا۔

پوری روایت پڑھیں اور آخر میں مزید امام بخاری کہتے ہیں ابن شہاب نے اسمعاعیل کے حوالے سے اور انہوں نے قیس اور انہوں نے جریر سے اتنا اضافہ کیا کہ عنقریب تم اپنے رب کو صاف (اعلانیہ) دیکھو گے۔
























نتیجہ: ایک طرف قرآن میں اللہ کا اعلان ہے کہ وہ جسم و جسمانیت سے مبرا ہے اس کی کوئی تمسیل نہیں، دوسری طرف امام بخاری خدا کو اعلانیہ طور پر دکھانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ فیصلہ قارئین خود کریں کہ جو کتاب مخالف کتاب خدا ہو وہ بعد از کلام باری کیسے مان لی جائے۔

صحیح بخاری: عائشہ نگاہ رسولﷺ میں:تم (عائشہ و حفصہ) یوسف ع کو گھیرانے والی عورتیں ہو















 










عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول ص نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں ، عائشہ کہتی ہیں میں نے حفصہ سے کہا تم عرض کرو جب ابوبکر آپکی جگہ کھڑے ہوں گے تو رقت (رونے) کے باعث لوگوں کو اپنی قرائت نہیں سناسکیں گے۔ لہذا آپ عمر کو حکم دیجیئے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حفصہ نے آپ ص سے کہا۔ رسول اللہ ص نے فرمایا: ٹھہرو تم یوسف ع کو گھیرانے والی عورتیں ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، حفصہ نے عائشہ سے کہا میں نے آپ سے کوئی خیر (نیکی) نہیں پائی۔




















نتیجہ: امام بخاری نے اپنے نزدیک بڑی چالاکی سے اس روایت کے ذریعہ ابوبکر کو جانشین رسول ص ثابت کرنے کی کوشش کی مگر اپنے ہی جال میں پھنس گئے کیونکہ اس روایت سے ابوبکر اگر جانشین رسول ص اس لئے ثابت ہوں گے کہ رسول ص نے انہیں نماز پڑھانے کا حکم دیا تو عمر جانشین کی فہرست سے غائب ہورہے ہیں کیونکہ نبی ص نے ان کا نام سنکر ناراضگی کا مظاہرہ کیا اور ان کی بیٹی حفصہ کو ڈانٹ دیا ، دوسرے یہ کہ نبی ص نے حفصہ اور عائشہ کو جناب یوسف ع کو گھیرنے والی عورتوں سے تشبیح دی ہے۔ اس روایت کے بعد ان دونوں کو ام المومنین کہنے والے غور کریں ، جو سیرت میں زنان مصر جیسی ہوں وہ ام المومنین کے لقب کی حقدار کیسے ہوجائیں گی۔ تیسرے یہ کہ اس روایت میں عمر کی بیٹی حفصہ نے ابوبکر کی بیٹی عائشہ سے کہا میں نے آپ سے کوئی خیر نہیں پایا۔یعنی حفصہ عائشہ کے شر کا کھلا ہوا اعلان کررہی ہیں۔ فیصلہ کیجیے کہ دونوں میں کس کو مانئے گا۔

صحیح بخاری: مٹی پر سجدہ جائز ہے۔

























یحیٰی ، ابوسلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو سعید خدری سے پوچھا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ص کو پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا حتٰی کہ مٹی کا داغ پیشانی پر نظر آیا






































عربی میں طین مٹی کو کہتے ہیں۔ یہاں ترجمہ میں اسے کیچڑ بتایا گیا ہے۔

ترجمہ کےلئے گوگل ٹرانسلیٹ دیکھئیے

نتیجہ: یہ روایت ان منکرین خاک کربلا کے رخساروں پر تماچہ ہے جو ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ کربلا کی مٹی کی بنی سجدہ گاہ پر سجدہ کیوں کرتے ہیں
 

صحیح بخاری: ابوہریرہ کی روایت اور کردار موسیٰ ع و ایوب ع































































نتیجہ: سبحان اللہ! دونوں روایتوں میں پہلی روایت بھی خوب ہے کہ صرف موسیٰ ع کے جسم کے عیب کو دکھانے کےلئے معاذاللہ برہنہ دکھایا جارہا ہے اور تماشہ یہ کہ پتھر کپڑے لے کر بھاگ رہا ہے موسیٰ ع دوڑ رہے ہیں ، پتھر سے التجا کررہے ہیں، اے پتھر میرے کپڑے دیدے۔ کیا اہل فہم اب بھی نہیں سمجھیں گے کہ یہ روایت وہی بیان کرسکتا ہے جس نے ماضی میں پتھروں کو خدا مان کر التجا کی ہو.
 عقل سلیم رکھنے والے انسان کے ذہن میں اس کے بارے میں  مندرجہ ذیل سوال پیدا هوتے ھیں ۔
۱۔ آیا خدا کا حضرت موسی کلیم اللہ کو تمام لوگوں کے درمیان عریاں کر دینا حتی کہ شرمگاہ بھی عیاں هو جائے صحیح ھے؟ !کیا یہ مضحکہ خیز ڈرامہ ایک رسو ل کی شخصیت کی توھین نھیں؟ ! وہ بھی ایک بے جان پتھر جو کہ نہ قوت درک رکھتا ھے، اور نہ قوت سامعہ ،اس کے پیچھے (ننگے باباؤں کی طرح) لوگوں کے سامنے دوڑے جانا، اور بلند آواز سے یہ کہنا : ثوبی حجر ، ثوبی حجر؟!!
۲۔ اگر مان لیا جائے کہ حضرت موسی کا لباس پتھر لے کر بھاگ گیا ،تو کیا یہ لباس کا لے کر بھاگنا امر خدا کی بنا پر نہ تھا ؟!اور جب حکم خدا کی بنا پر تھا تو موسی کو غصہ و غضب دکھانے کی کیا ضرورت تھی ؟ !اور پھرپتھر پر عقاب و عتاب کرنا چہ معنی دارد؟ !پتھر پراس کا کیا اثر ؟!
 اگر پتھر لباس لے کر چلا گیا تھا تو جناب موسی کو مجمع کے درمیان عریاں هوکر آنے کی کیا ضرورت تھی؟!کیا شرع و عقل اس بات کی اجازت دیتی ھے کہ حضرت موسی بجائے کسی گوشہ و کنارے میں چھپنے کے ننگے ننگے (معاذ اللہ) پبلک میں اپنی زیارت کر وانے تشریف لے آئیں؟

اگر یہ کھا جائے کہ چونکہ موسیٰ کا عیب سے بری کرنا مقصود تھا اس لئے یہ سب کھیل کھیلا گیا تو اس کا جواب یہ ھے کہ کسی عیب سے بری کرنے کا مقصد یہ نھیں کہ ایک نبی کی منظرعام میں توھین کرنا جائز هو جائے، اور آیا ت و معجزات کے ظهور کا سبب قرار پائے ؟!کیونکہ اگر حضرت موسیٰ کسی مرض میں مبتلا تھے تو کیا عیب تھا ؟!کیا حضرت شعیب نابینا نہ تھے ؟کیا انبیاء مریض هوکر وفات نھیں پائے؟ کیا انبیاء کے مخفی عیب سے لوگ واقف نھیں هوئے ؟! اور اگر حضرت موسیٰ کا مرض مخفی تھا کہ جس سے اکثر لوگ واقف نہ تھے توکیا خدا پر بھی لازم نہ تھا کہ وہ بھی انھیں کے سامنے ان کو برہنہ کرتا جن لوگوں کو شک تھا


اور دوسری روایت کہ حضرت ایوب ع کا برہنہ ہوکر نہانا اور سونے کی ٹڈیوں کا برسنا، حضرت ایوب ع کا سونے کی تڈیوں کو سمیٹنا کیا پیغام دے رہا ہے۔ شاید یہ برہنہ ہوکر نہانے کے فائدوں میں سے ایک فائدہ ہے۔ بسم اللہ ابوہریرہ کے معتقدمین کو سونا لوٹنے کا اس بہتر راستہ کیا ہوسکتا ہے۔

صحیح بخاری : معاذاللہ رسول پاک ص حالت حیض میں عائشہ کی گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھتے تھے































نتیجہ: صحیح بخاری کی اس روایت میں رسول پاک ص کی توہین کی گئی ہے:

حائضہ عورت ایام حیض میں نماز نہیں پڑھ سکتی۔
قرآن اور دوسری مقدس چیزوں کو ہاتھ نہیں لگاسکتی۔
اور یہاں رسول پاک ص کی یہ توہین کی جارہی ہے کہ بجائے دوسری جگہ قرآن پڑھنے کے وہ ایام حیض میں عائشہ ہی کی گود میں سر رکھ کر قرآن پاک پڑھتے تھے۔(معاذاللہ)

صحیح بخاری اور توہین رسالت: معاذاللہ رسول ص کھڑے ہوکر یہ عمل (پیشاب) انجام دیتے تھے۔


























































نتیجہ: صحیح بخاری کی اس سے پہلے والی روایت سے ثابت ہے کہ جو پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا اس پر عذاب ہوتا ہے۔ اور آخری والی اس روایت میں معاذاللہ ثابت کیا گیا کہ خود رسول ص کھڑے ہوکر یہ عمل انجام دیتے تھے۔

اللہ جانے امام بخاری ، ان روایتوں کے ذریعہ کیا ثابت کرنا چاہتے تھے؟

صحیح بخاری اور توہین رسالت : معاذ اللہ رسول ص کو علم نہیں تھا کہ وہ رسول ص بن گئے




































 












نتیجہ:  صحیح بخاری کی اس روایت کو پڑھنے کے بعد نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ:

۱) معاذ اللہ رسول ص کو جبرئیل زور زور سے دبا کر زبردستی پڑھنے کو کہہ رہے ہیں۔ ایک طرف قرآن کہہ رہا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ دوسری طرف دین پہونچانے والے نبی ص پر ہی جبر ہورہا ہے۔

۲) اس روایت سے دوسری بات یہ سامنے آرہی ہے کہ معاذاللہ رسول ص کو رسالت ملنے کی وجہ سے جان خطرے میں نظر آرہی ہے۔ اور ان کو علم ہی نہیں کہ وہ رسول بن گئے ہیں اور اس پر تماشہ یہ کہ ایک عیسائی انکی نبوت کی تصدیق کررہا ہے ایک طرف قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی نبوت کا اعلان آغوش مادر میں کررہے ہیں دوسری طرف قرآن لانے والے کی نبوت کا اعلان عیسائی کررہا ہے۔

۳) اس روایت میں ایک یہ بھی منظر ہے کہ معاذ اللہ نبی ص فرشتہ کو دیکھ کر ڈر گئے اور گھر میں چلے آئے جبکہ قرآن میں اسی ڈرانے والے کو ڈرانے والا بتایا جارہا ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ نبی کا ڈر جانا کچھ بزدلوں کے ڈر کو جائز بنانے کےلئے گڑھا گیا ہے۔

صحیح بخاری: جبرئیل ع اور بائی پاس سرجری

  

















 
عبدان بن عبداللہ ، یونس ، زہری اور انس بن مالک کے توسط سے روایت کی ہے کہ ابوذر بیان کرتے ہیں رسول اللہ ص نے فرمایا میں مکہ میں تھا میری چھت کھول دی گئی ، جبرئیل ع اترے اور انہوں نے میرے سینہ کو چاک کرکے زم زم کے پانی سے دھویا پھر ایک حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا سونے کا طشت لیکر آئے اور اسے میرے سینے میں انڈیل دیا پھر سینہ سی دیا گیا میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان دنیا پر لے گئے جبرئیل ع نے آسمان دنیا کے داروغ سے کہا (دروازہ) کھولو، اس نے پوچھا کون؟ کہا جبرئیل ع



صحیح مسلم میں انس بن مالک سے روایت ھے: ایک روز رسول خدا(ص) بچوں کے ھمراہ کھیل رھے تھے، (اچانک) جبرئیل ان کے پاس آئے، اورانھیں پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا، اور ان کا سینہ چاک کر کے دل باھر نکالا، اور حضرت (ص) کے دل کے اندر سے خون کا ایک ٹکڑا باھر نکال دیا اور کھا یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا

نتیجہ: کیا مضحکہ خیز روایت ہے ، جبرئیل نہ ہوگئے معاذ اللہ سیندھمار ہوگئے جو گھر کی چھت کھول کر اتر رہے ہیں۔ پھر وہی سرجن بن گئے ، ایمان سے بھرا طشت نبی کا سینہ چاک کرکے آب زم زم سے دھوکر سینے کے اندر ایڈیل رہے ہیں سینے میں ایمان بھرا جارہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ معاذ اللہ نبی بھی آج مومن بنائے جارہے ہیں (استغفراللہ)

اور تماشہ یہ ہے کہ اس روایت کے راویوں میں حضرت ابوذر ع کا نام شامل کیا گیا، حالانکہ کہاں حضرت ابوذر اور کہا یہ خرافات.

واقعہ عصمتِ رسول اسلام (ص) کے منافی ھے کیو نکہ رسول(ص) معصوم تھے ،لہٰذا جب آپ تمام شےطانی خباثت، نجاست ا و ر آلائش سے پاک و پاکیزہ تھے تو پھر آپ کے سینے میں شیطان کے حصہ کا کیا مطلب جسے جبرئیل نے آکر آپرےشن کے ذریعہ نکالا



صحیح بخاری: معاذ اللہ نبی کریم ص نے زید بن عمرو کے سامنے دستر خوان بچھایا جس پر بتوں کے نام پرکی گئی قربانی کا گوشت رکھا تھا






















عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ آںحضرت ﷺ زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح کے نشیب میں ملے۔ اس اس وقت کا ذکر ہے جب آپ پر وحی نہیں اتری تھی۔ آںحضرت ﷺ نے زید کے سامنے ایک دستر خوان بچھایا جس پر گوشت رکھا تھا زید نے اس کے کھانے سے انکار کیا پھر کہنے لگے میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا جن کو تم بتوں کے تھانوں پر ذبح کرتے ہو میں تو اسی جانور کا گوشت کھاتا ہوں جو اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔




 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نتیجہٴ

 ۔  معاذ اللہ زید بن عمرو دور جاھلیت اور قبل بعثت رسول(ص) سے زیادہ توحید میں اعرف تھے!!
۔ معاذ اللہ رسول اسلام (ص) بھی دوسرے لوگوں کی طرح بت و اصنام رکھتے تھے، اور انھیں کے نام پر حیوانوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت تناول فرماتے تھے ”انی لا آکل مما تذ بحون علی انصابکم ولا آکل الا مما ذکراسم اللّٰہ علیہ “لیکن زید ان بتوں اور بت پرستی سے دور وادی ٴ توحید کے باشندہ تھے!!  اس سے بھی صریح تر اک اور د وسری حدیث ھے جس کو احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نوفل بن ھشام بن سعد بن زید سے نقل کیا ھے

ایک مرتبہ رسول خدا(ص) ابو سفیان کے ساتھ ایسے حیوان کے گوشت کو تناول فرمارھے تھے جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا تھا، جب زید کو کھانے کے لئے بلایا گیا تو زید نے انکار کر دیا، اور اس کے بعدرسول اسلام(ص) بھی زید کی پیروی کرتے هوئے اٹھ کھڑے هوئے، اور اس کے بعد سے رسول اکرم(ص) نے اعلان ِ بعثت تک اس گوشت کو نھیں کھایا جو اصنام و ازلام کے نام پر ذبح کیا جاتا

مسند احمد بن حنبل،ص۱۸۹
آیات و روایا ت کی روشنی میں تمام انبیاء ومرسلین بالخصوص حضرت محمد مصطفی  (ص)کی شخصیت و فضیلت سے متعلق  نقل کر چکے ھیں کہ آپ زمانہٴ جاھلیت میں تمام رذائل و خبائث سے پاک وپا کیزہ تھے، اور آپ کا اوصاف حمیدہ میں کوئی ثانی نہ تھا، اور ان حیوانات کا گوشت نھیں کھاتے تھے جو بتوں کے نام پر ذبح کئے جاتے تھے، چنانچہ رسول(ص) اسلام بھی قطع نظر اس بات کے کہ آپ منصب نبوت کے لئے زمانہٴ شیر خوارگی ھی سے لیاقت وآمادگی رکھتے تھے ، اسی خاندان کے چشم وچراغ تھے،اسی پاکیزہ خاندان میں آپ نے پرورش پائی تھی ،کیا یہ سوچا جاسکتا ھے کہ رسول(ص) اسلام اپنے خاندان کی اعلیٰ تعلیم و تہذیب کو جس کی تبلیغ و گسترش کے لئے یہ حضرات ھمیشہ کوشاں رہتے تھے ، چھوڑکر بت پرستوں کی پیروی کریں گے ، اور نادان لوگوں کے ساتھ ناپاک گوشت تناول کریں گے؟! کیا رسو ل خدا  ا (ص) توحید کے اس مر تبہ تک بھی نھیں پهونچے هوئے تھے جو زید بن عمر و جیسے افراد کو حاصل تھا ؟!تعجب یہ ھے کہ آپ(ص) حرام گوشت تناول کرتے ھیں، لیکن زید ابن عمرو دین ِ خدا  سے آشنا هو نے کی وجہ سے اس گوشت کو نھیں کھاتے جو بتوں کے نام پر ذبح کیا جائے، اوررسول خدا  زید بن عمرو کی اس خدا پسند انہ عمل میں تا زمانہٴ بعثت پیروی کرتے ھیں، اور زمانہٴ بعثت تک اس کو ایک سنت حسنہ اور اچھی عادت کے طور پر زندہ رکھتے ھیں
ھمارے نزدیک یہ دونوں حدیثیں بھی انھیںسینکڑوں حدیثوں کے مانند ھیں جو خلفاء اور ان کے خاندان کی اھمیت اور عظمت اجاگر کرنے کے لئے اور خاندانی تعصب اور رقابت کی بنا ء پر جعل کی گئیں ھیں، کیونکہ زید بن عمرو کوئی دور کے رشتہ دار نہ تھے بلکہ خلیفہ صاحب کے چچا زاد بھائی اور آپ کے خسر معظم تھے (اگر ان کے حق میں حدیث ِ فضیلت جعل نہ کی جاتی توزوجہٴ محترمہ ناراض نہ هوجاتیں!!) ھماری بات کی تصدیق اس چیزسے بھی هوتی ھے کہ اس حدیث کے ناقل جناب عبدالله ا بن عمر(حضرت عمر کے صاحبزادے) اور نوفل بن ھشام بن سعد بن زید ( زید کے پر پوتے) ھیں ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا راوی نظر نھیں آتا، لہٰذا اس سے پتہ چلتا ھے کہ دال میں ضرور کالا ھے ؟!! کیا اس روآیت کے گڑھنے والے اس بات کی طرف متوجہ نہ تھے کہ مذکورہ روآیت کا  مضمون ،قرآن ا ور صرےح روا یات سے عدمِ مطابقت کے ساتھ ساتھ مقام رسالت کی ایسی توھین ھے کہ جس کا جبران ناممکنات میں سے ھے ؟!  


 کسی کو یہ غلط فھمی نہ هو کہ ھم زید کے زمانہ ٴجاھلیت میں موحد هونے کے منکر ھیں ،بلکہ ھمارا مقصد آنحضرت(ص) کی شخصیت کو زید کے مقابلہ میں دیکھنا ھے بس، و گرنہ شیعہ روایات میں بھی آیاھے کہ زیدھمیشہ آ ئین توحید کی تلاش اور خدا پرستی کی جستجو میں رہنے کے ساتھ ساتھ بت پرستی سے بیزاری کرتے تھے۔

  یوں کھا جائے تو بہترھے کہ حدیث جعل کرنے والوں نے ان دونوں حدیثوں میں زید ابن عمرو کے بارے میں جو مبالغہ آرائی فرمائی ھے، وہ جعلی اور من گڑھت ھے، یعنی آنحضرت (ص) کو پست ظاھر کرکے زید کو جس بناء پر بلند کیا ھے وہ ایک خاص مقصد کے تحت ھے، اس کے بعد اس کو صحیح حدیث کے قالب میں اھل سنت کی اصلی اور معتبر کتابوں میں مسلمانوں کے حوالے کیا گیا  ھے، تاکہ مسلمان با آسانی قبول کر لیں، چنانچہ هوا بھی ایسا ھی کہ آج پڑھے لکھے اھل سنت بھی مذ کورہ روآیت کو صحیح اور معتبر مانتے ھیں!!

بنت رسول ص سے گواہ مانگنے والا ، صحابی سے گواہی نہیں مانگتا




















جابر ابن عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ص نے فرمایا اگر بحرین سے مال آگیا تو تمہیں اتنا (کچھ اندازہ کرکے) دوں گا۔ لیکن بحرین سے مال نہ آیا حتٰی کہ رسول اللہ ص کا انتقال ہوگیا، جب بحرین سے مال آیا تو ابوبکر نے اعلان کرایا جس شخص سے رسول ص نے کوئی وعدہ کیا ہو یا آپ ص پر کسی کا قرض ہو تو میرے پاس آجائے۔ چناچہ میں ان کے پاس آیا میں نے کہا رسول اللہ ص نے مجھے (اتنا) مال کا وعدہ کیا تھا۔ مجھے ابوبکر نے مٹھی بھر کر دی میں نے گنا تو پانچ سو(دینار یا درہم) تھے اور کہا اس سے دوگنا لے لو۔






































نتیجہ: خدارا انصاف کیا جائے کہ جابر بن عبداللہ ؓ محترم ضرور ہیں مگر کہاں بنت رسول ص کہاں جابر اور ایک طرف جب حضرت فاطمہ ع بنت رسول اللہ ص اسی ابوبکر کے پاس اپنا فدک واپس لینے گئیں تو گواہ مانگے گئے اور جابر مال لینے گئے تو بغیر گواہ کے صرف مال ہی نہیں دیا گیا بلکہ دوگنا لینے کو کہا گیا۔ اہل انصاف اس ابوبکر کو کیا کہیں گے جو صحابی کے دعوے پر یقین کرے اور اس بی بی کے دعوے پر یقین نہ کرے جس کی طہارت تطہیر اور جس کی صداقت میں آیت مباہلہ آئی تھی

صحیح بخاری: معاذ اللہ نبی کریم ص نے کئی مرتبہ پہاڑ سے کود کر خودکشی کرنے کی کوشش کی






















عائشہ روایت کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ورقہ بن نوفل کا انتقال ہوگیا اور وحی کا آنا بھی بند ہوگیا اس سے نبی کریم ص کو بہت صدمہ پہنچا۔ جس رنج و غم کی ہمیں خبریں پہنچیں چناچہ متعدد مرتبہ آپ ص پہاڑ کی بلند چوٹیوں پر چڑھے کہ وہاں سے خود کو گرادیں۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر اپنے آپ کو گرانے کےلئے چڑھتے تو حضرت جبرئیل ع دکھائی دیتے اور کہتے اے محمد مصطفےٰ ص! آپ تو اللہ کے برحق رسول ہیں۔ اس سے جوش اضطراب ٹھنڈا ہوجاتا۔ اور دل کو قرار آتا۔ لہذا آپ واپس لوٹ آتے جب بھی آپ پر وحی کا سلسلہ کچھ دنوں کےلئے بند ہوتا تو آپ کی یہی اضطرابی کیفیت ہوتی اور جب اسی ارادے سے آپ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو جبرئیل ع اسی طرح آپ سے کہتے








































قارئین غور فرمایا کہ ایک طرف اسی کتاب میں رسول خدا ص کی توہین کی جارہی ہے۔ اور دوسری طرف یہی کتاب بعد کلام خدا۔۔ پوری انبیا کی تاریخ میں کسی نبی نے ایسا کام نہیں کیا۔ معاذ اللہ وحی کی ابتدا کے جو واقعات صحیح بخاری میں درج ہیں۔ اس سے کیا نتیجہ نکالا جائے کہ معاذ اللہ رسول ص کو پتہ ہی نہیں کہ انھیں نبوت مل رہی ہے۔ صحیح بخاری میں لکھے وحی کی ابتدا کے یہ واقعات قرآن کے خلاف ہیں۔ کیونکہ قرآن فرماتا ہے کہ عیسیٰ ع نے آغوش مادر میں اپنی نبوت کی گواہی دی۔ حضرت موسیٰ ع کو جب نبوت کا منصب ملا تو وہ بھی دل برداشت نہیں ہوئے۔ بلکہ اللہ سے دعا مانگی اور انھیں کوئی ڈر لاحق نہیں ہوا۔ ہر نبی کو اپنی امت کے ہاتھوں بے شمار تکلیفیں اٹھانی پڑیں ہیں۔ لیکن ان تکلیفوں کی وجہ سے کس نبی نے خود کشی کی کوشش تو نہیں کی(نعوذباللہ)۔

 ان روایات کے مطابق معاذ اللہ رسول خدا(ص) وحی ٴ قرآن اور جبرئیل کے نزول کے بعد بھی اپنی نبوت میں شک کرتے تھے اور محسوس کر رھے تھے کہ دیوانے هوگئے ھیں یا  یہ خیال کررھے تھے کہ ان کے جسم میں جن حلول کر گئے ھیں، تاکہ ان کو کاہن یا شاعر بنادیں! جیساکہ جاھلیت میں یہ عقیدہ تھا اور حضرت(ص) چونکہ کاہن اور شعراء سے نفرت کرتے تھے لہٰذا چاھا کہ پھاڑ پر جا کر اپنے کو نیچے گرادیں، لیکن جناب خدیجہ اور ورقہ نے اس کو دور کیا، اور یا د دھانی کرائی کہ یہ مسئلہ جنوں سے مربو ط نھیں ھے

پس کیا یہ ممکن هوسکتا ھے کہ رسول(ص) پر وحی نازل هو اور آپ کو اپنی رسالت ونبوت تک کی خبر نہ هواور کاہن و راھب اس بات کی مدتوں پھلے سے خبررکھتے  تھے ؟!!
 

۔ کیا یہ ممکن ھے کہ خدا کسی کو مبعوث برسالت فرمائے اور اسے اس عظیم منصب کی علم و آگاھی نہ دے ۔ جو منصب رسالت پر فائز هو رھا ھے کیا وہ وحی ٴ الہٰی اورشیطانی الھام میں فرق نھیں کرسکتا؟ !جب کہ حضرت عیسیٰ گهوارہ میں ھی اپنی نبوت کا اعلان کرتے هوئے نظر آرھے ھیں

کیا بخاری گستاخ رسول ص نہیں؟ کہ اس نے وہ بات اپنی حدیث کی کتاب میں لکھی ہے جو من گھڑت ہے قرآن کے خلاف ہے
اور اس روایت میں صرف اور صرف رسول خدا ص کی توہین کی گئی ہے۔ وہ رسول ﷺ جو خودکشی کرنے سے اپنی امت کو منع فرما رہے ہیں کہ یہ فعل حرام ہے۔ تم نے اسی رسول ﷺ پر خودکشی کا الزام لگا لیا۔
کچھ لوگ بخاری کو بچانے کےلئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ابھی آپ ﷺ پر نبوت نازل نہیں ہوئی تھی اور خودکشی کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ تو ان لوگوں سے ہمارا سوال ہے کہ اس سے پہلے رسول ﷺ دین ابراہیمی کے پیروکار تھے اور اسی دین پر آپ کے اباو اجداد تھے۔ بتا سکتے ہیں کہ کیا خودکشی دین ابراہیمی میں جائز تھی؟

بہرحال یہ من گھڑت روایت رسول ﷺ کو ایک عام بشر ثابت کرنے کےلئے گھڑی گئی ہے۔ بخاری نے اپنی صحیح میں پوری کوشش کی ہے کہ ایک عام بشر اور رسول ﷺ میں کوئی فرق نہ چھوڑے۔
 صحیح بخاری کی یہ جھوٹی روایت اگر کوئی عام افراد پڑھ لیں تو زندگی کے کسی بھی موقع پر انھیں خودکشی کرنے میں حوصلہ افزائی ملے گی۔ کہ معاذاللہ رسول ﷺ نے بھی کوشش کی تو ہم تو عام انسان ہیں۔
 

عائشہ کا رسول ص کے ساتھ حیلہ کرنا





















عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ عائشہ نے فرمایا کہ نبی اکرم ص میٹھی چیزوں اور شہد کو پسند فرماتے تھے اور جب آپ نماز عصر پڑھ لیتے تو اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے قریب ہوجاتے چناچہ جب آپ ص حفصہ کے پاس تشریف لے گئے تو معمول سے زیادہ ٹھرے چناچہ میں(عائشہ) نے اس بارے میں آپ سے دریافت کیا تو مجھے بتایا کہ حفصہ کی کسی قومی عورت نے ان کےلئے شہد کی کپی بھیجی تھی اور انہوں نے رسول اللہ ص کو اس میں سے پلایا، میں (عائشہ) نے اپنے دل میں کہا کہ خدا کی قسم میں اس بارے میں ضرور کوئی حیلہ (مکاری) کروں گی پس میں نے سودہ سے اس کا ذکر کیا میں نے کہا جب حضور ﷺ آپ کے پاس تشریف لائیں اورقریب ہوں تو ان سے عرض کرنا کہ یارسول اللہ ص ! کیا آپ نے مغافیر (بدبو دار حلوہ) کھایا ہے پس حضور ﷺ انکار فرمائیں گے تو عرض کرنا کہ تو پھر یہ بدبو کیسی ہے؟ اور رسول اللہ ﷺ کو یہ بات گراں گزرے گی کہ ان بدبو آئے چناچہ حضور ﷺ یہ ضرور فرمائیں گے کہ مجھے حفصہ نے شہد کا شربت پلایا ہے ، پس عرض کرنا کہ شائد مکھی نے غرفط کا عرق چوسا ہوگا۔ اور میں بھی یہی کہوں گی اور اے صفیہ آپ بھی یہی کہنا جب حضور ﷺ سودہ کے پاس تشریف لائے تو سودہ کا بیان ہے کہ قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ حضور ﷺ ابھی درازے پر ہی تھے کہ آپ کی پاش خاطر  سے میرا ارادہ ہوا کہ میں وہ بات کہہ دوں جو آپ (عائشہ) نے مجھ سے کہی تھی جب رسول اللہ ﷺ قریب ہوئے تو میں عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہ ﷺ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ فرمایا کہ نہیں، میں عرض گزار ہوئی کہ پھر یہ بدبو کیسی ہے؟ فرمایا کہ مجھے حفصہ نے شہد کا شربت پلایا ہے میں نے کہا ہوسکتا ہے شہد کی مکھی نے غرفط چوسا ہو جب آپ میرے (عائشہ) پاس تشریف لائے تو میں نے بھی ایسا ہی کہا اور جب صفیہ کے پاس تشریف فرما ہوئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا ، پس جب حضور ﷺ حفصہ کے پاس تشریف لے گئے اور انہوں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ ! کیا میں آپ کو اس میں پلاوں ؟ فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ان کا بیان ہے کہ سودہ فرماتی سبحان اللہ ہم نے اسے حضور ﷺ کےلئے حرام کردیا میں (عائشہ) نے کہا خاموش رہئے







































نتیجہ روایت:   اہل نظر ذرا اندازہ لگائے کہ وہ ازواج رسول ﷺ جنہیں مومنین کی ماں کے لقب سے آج تک یاد کیا جاتا ہے وہ ایسی حرکتیں فرمارہی ہیں جو شاید عام مومنین کی بیویاں بھی مومنین کے ساتھ بھی نہ کریں۔ یقیناً سوتنوں کا حسد اپنی جگہ پر ہے مگر انصاف کریں کہ اس روایت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عائشہ اور انکی ہمنواں ازواج رسول ﷺ کے دلوں میں زرہ برابر بھی نہ خوف خدا تھا اور نہ احترام رسول ﷺ ۔ اور معتقدمین بخاری سے یہ بھی سوال ہے کہ ہم روایت کو پڑھ کر عائشہ اور ان کی ہمنواں ازواج کا احترام کس بنیاد پر کریں۔ 

اور روایت کے آخر میں سودہ کا یہ کہنا سبحان اللہ ہم نے اسے رسول ﷺ کےلئے حرام کردیا، یہ جملہ قابل غور اور دعوت فکر دیتا ہے کہ جو عورتیں رسول ﷺ کےلئے حلال چیز کو حرام بنادینے پر فخر کررہی ہوں اگر انہوں نے خدیجہ ع اور ان کی اولاد کی عداوت میں بعد رسول ﷺ شریعت کے دیگر احکام کے ساتھ کھلواڑ کئے ہوں تو حیرت کیا ہےَ؟

اصحاب رسول ص قیامت میں حوض کوثر سے دور کئے جائیں گے




















ابووائل نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ص نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں، میرے پاس تم میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے ، یہاں تک کہ جب میں انہیں پانی پلانے کےلئے جھکوں گا تو انہیں گھسیٹ کر مجھ سے دور کردیا جائے گا، پس میں عرض کروں گا اے رب! میرے اصحاب (ساتھی) ، فرمایا جائے گا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا نیا راستہ ایجاد کیا۔








































نتیجہ: اس طرح کی روایتیں دوسری جلد میں بھی موجود ہیں اور اس کتاب الفتن میں حدیث نمبر ۱۹۳۱۔۱۹۳۳ میں بھی یہی موجود ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ تمام اصحاب کو عقیدت کا مرکز بنانے والے اتنے بھولے ہیں کہ ان حدیثوں کو پڑھنے کے بعد بھی نہ سمجھ پائیں کہ حقیقت کیا ہے، مگر عداوت اہل بیت ع میں یہ جو نہ کرلیں وہ کم ہے، یہ عداوت علی ع کے سوا کچھ نہیں ہے۔ معتقدمین بخاری ، اس روایت کو پڑھنے کے بعد اپنے اس باطل عقیدے کو چھوڑ دیں جس میں ان کا ماننا ہے کہ رسول ص کے سبھی اصحاب قابل احترام ہیں، ان میں سے کسی کی بھی پیروی کرنے سے نجات مل جائے گی۔ اس طریقہ کا عقیدہ رکھنے والوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ صحیح بخاری کی اس روایت کے آئینہ میں (جو اوپر پیش کی گئی) خود اصحاب کو تو نجات مل نہیں پارہی ہے تو وہ دوسروں کو کیا خاک نجات دلائیں گے۔ اور ہمارا اس بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ ایسے اصحاب کی پیروی کرنے سے ایک چیز بہت آسانی سے مل سکتی ہے اور وہ ہے جہنم (بقول عین البنارسی)

      وہ جو مومن تھا اسے تو تم نے کافر کہہ دیا
      دفن اس کو کردیا جس کو جلانا   چائیے تھا

رسول پاک ص کی زندگی میں کسی کا نماز پڑھانا دلیل خلافت نہیں ہے





















نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر نے انہیں بتاتے ہوئے فرمایا کہ سالم مولےٰ ابوحذیفہ مہاجرین اولین اور نبی کریم ﷺ کے دیگر اصحاب کی مسجد قبا میں امامت کا فریضہ ادا کیا کرتے تھے اور مقتدیوں میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید، اور عامر بن ربیعہ بھی ہوتے تھے۔





































نتیجہ: اس موقعہ پر میں (سید عباس نقوی) نے اس روایت کو اس لئے پیش کیا تاکہ یہ ثابت ہوسکے کہ ضروری نہیں کہ نبی ص جسکو نماز پڑھانے کو کہیں وہ خلیفہ رسول ص بنادیا جائے اس لئے کہ اس سے پہلے بخاری صاحب نے کئی جگہ پر اس روایت کو نقل کیا ہے جس میں عائشہ سے روایت ہے کہ رسول ص نے اپنی بیماری کے وقت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اور اسی روایت کو دلیل خلافت ِ ابوبکر بنایا جاتا ہے حالانکہ اس روایت میں اگر یہ ہے کہ رسول ص نے ابوبکر کو نماز پڑھانے کےلئے کہا تو یہ بھی ہے کہ خود رسول ص بھی پیچھے پہنچ گئے اور ابوبکر کو مسند امامت سے ہٹنا پڑا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی ص نے زبانی طور پر امام بنایا اور عملی طور پر ہٹادیا، خیر اس روایت میں ابوحذیفہ کو مسجد قبا میں امامت کرتے دکھایا گیا ہے اور کئی صحابیوں کو ابوبکر اور عمر سمیت ان کے پیچھے نماز پڑھتے دکھایا گیا ہے اگر ابوبکر کے پیچھے لوگوں کا نماز پڑھنا ابوبکر کے خلیفہ ہونے کا ثبوت ہے تو جس غلام کے پیچھے ابوبکر اور عمر نے نبی ص کی زندگی میں نماز پڑھی ہو اسے خلافت کی فہرست سے کیوں نکال دیا گیا؟َ۔۔

Thursday, 28 May 2015

عائشہ کا حجرہ شیطان کی گزر گاہ ہے





















عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ص خطبہ دے رہے تھے تو آپ ص نے عائشہ کے حجرے کی جانب اشارہ کرکے فرمایا ، ادھر  فتنہ ہے۔ تین مرتبہ یہ بات دہرائی ، ادھر سے شیطان سیرت لوگ نکلیں گے۔


























نتیجہ:

اس روایت کے تبصرے سے واضح کرتے چلیں کہ صحیح بخاری کے جس ترجمہ کو پیش کیا جارہا ہے وہ مولانا اختر شاہ جہاں پوری کا کیا ہوا ہے اور انہوں نے عربی عبارت کے سامنے ترجمہ کرکے اردو عبارت لکھی ہے۔ انہوں نے کچھ الفاظ اس طرح لکھیں ہیں جیسے اس روایت میں (مشرق) اور (نجد وغیرہ) ۔ حالانکہ عربی عبارت میں نہ لفظ مشرق ہے نہ لفظ نجد وغیرہ ، وہاں صرف یہ ہے کہ حجرہ عائشہ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ وہاں فتنہ ہے اور وہاں شیطان کے سینگ ہیں لوگ ہیں، جسے ترجمہ کرنے والے نے لکھا ہے شیطان سیرت لوگ نکلیں گے، بہرحال بڑی واضح روایت ہے اب اس کے پڑھنے کے بعد اہل نظر کےلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ عائشہ نے مولا علی ع سے جنگ کیوں کی ؟ امام حسن ع کے جنازے پر تیر کیوں چلوائےَ؟ اس روایت کے مطابق حدیث رسول ص نے عائشہ کی حقیقت سے آگاہی پہلے ہی کرادی تھی۔ یہ روایت عائشہ کے عیب اور رسول ص کے علم غیب دونوں پر دلالت ہے

معاویہ اور اس کے ساتھ جہنمی و باغی ہیں


























حضرت ابن عباسؓ نےعکرمہ اور علی بن عبداللہ سے فرمایا کہ تم دونوں ابوسعید خدری کے پاس جاو اور ان سے حدیث کا سماع کرو پس ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ باغ کو پانی دے رہے تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس تشریف لے آئے اور اختیار کی حالت میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جب مسجد نبوی کی تعمیر ہورہی تھی تو ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے لیکن عمار ؓ دو اینٹ لاتے تھے ، جب نبی کریم ص ان کے پاس گزرے تو ان کے سر کا غبار جھاڑتے ہوئے فرمایا عمارؓ کی اس حالت پر افسوس ہے کہ ان کو باغیوں کا ایک گروہ قتل کرے گا، یہ انہیں اللہ کی طرف بلائیں گے اور وہ ان کو جہنم کی طرف۔






































نتیجہ روایت:

بہت ہی واضح الفاظ میں نبی ص نے حضرت عمار ؓ کے قاتلوں کی پہچان اور حقیقت بتادی ہے کہ جو ان کو قتل کریں گے وہ باغی بھی ہوں گے اور جہنمی بھی۔ اب بخاری کی یہ روایت پڑھنے کے بعد صاحبان نظر انصاف سے تاریخی کتابیں پڑھ کر دیکھ لیں کہ حضرت عمار ؓ کو قتل کرنے والے کون تھے؟ اس میں کوئی تاریخ اختلاف نہیں ہے کہ حضرت عمار ؓ جنگ صفین میں حضرت علی ع کی طرف سے جہاد کررہے تھے ان کا حضرت علی ع کی طرف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ حق مولا علی ع کی طرف تھا، دوسری طرف عمار ؓ نے جن سے جہاد کیا وہ کوئی اور نہیں بلکہ معاویہ ابن ابو سفیان اور اس کے ساتھی تھے، بخاری پر یقین کرنے والے کم سے کم معاویہ کا جہنمی ہونا تسلیم کریں یا بخاری کو جھوٹا کہیں

Wednesday, 27 May 2015

صحیح بخاری: رسول ص سفر میں نماز قصر کرکے پڑھتے تھے۔




انس بن مالک روایت کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ص کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی چار اور ذی الحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔





















نتیجہ: افسوس صحیح بخاری کی اس واضح روایت کے بعد بھی جو لوگ شیعوں کی حالت سفر میں قصر نمازوں پر اعتراض کرتے ہیں ، یقیناً نہ وہ قرآن سے واقف ہیں اور نہ ہی اپنی کتاب صحیح بخاری سے۔

صحیح بخاری: تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان نے خلاف سیرت رسول ص نماز پڑھی




عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ ہمیں عثمان بن عفان نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی۔ اس کے متعلق جب عبداللہ بن مسعود کو بتایا گیا تو کہا ۔انا للہ و ان الیہ راجعون،،  پھر فرمایا میں نے رسول اللہ ص کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں اور ابوبکر و عمر کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، کاش ان چار رکعتوں میں سے دو مقبول رکعتیں ہمارے حصہ میں آتیں۔























نتیجہ: اس باب میں حدیث ۱۰۱۷،۱۰۱۸ سے بھی یہ ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام ص منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے مگر عثمان نے دو کی چار کردیں۔ اب اہل فکر اندازہ لگائیں کہ شیعوں کا کافر اس لئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اذان میں علی ولی اللہ بڑھالیا۔ اگر شیعہ اذان میں جملہ بڑھانے کی وجہ سے کافر ہیں تو عثمان بن عفان تیسرے خلیفہ نے دو کی چار رکعتیں کردیں اور خلاف سیرت رسول ص عمل کیا، مفتی ان کو کیا فتویٰ دیں گے؟۔

Share This Knowledge