Friday, 29 May 2015

صحیح بخاری: معاذ اللہ نبی کریم ص نے کئی مرتبہ پہاڑ سے کود کر خودکشی کرنے کی کوشش کی






















عائشہ روایت کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ورقہ بن نوفل کا انتقال ہوگیا اور وحی کا آنا بھی بند ہوگیا اس سے نبی کریم ص کو بہت صدمہ پہنچا۔ جس رنج و غم کی ہمیں خبریں پہنچیں چناچہ متعدد مرتبہ آپ ص پہاڑ کی بلند چوٹیوں پر چڑھے کہ وہاں سے خود کو گرادیں۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر اپنے آپ کو گرانے کےلئے چڑھتے تو حضرت جبرئیل ع دکھائی دیتے اور کہتے اے محمد مصطفےٰ ص! آپ تو اللہ کے برحق رسول ہیں۔ اس سے جوش اضطراب ٹھنڈا ہوجاتا۔ اور دل کو قرار آتا۔ لہذا آپ واپس لوٹ آتے جب بھی آپ پر وحی کا سلسلہ کچھ دنوں کےلئے بند ہوتا تو آپ کی یہی اضطرابی کیفیت ہوتی اور جب اسی ارادے سے آپ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو جبرئیل ع اسی طرح آپ سے کہتے








































قارئین غور فرمایا کہ ایک طرف اسی کتاب میں رسول خدا ص کی توہین کی جارہی ہے۔ اور دوسری طرف یہی کتاب بعد کلام خدا۔۔ پوری انبیا کی تاریخ میں کسی نبی نے ایسا کام نہیں کیا۔ معاذ اللہ وحی کی ابتدا کے جو واقعات صحیح بخاری میں درج ہیں۔ اس سے کیا نتیجہ نکالا جائے کہ معاذ اللہ رسول ص کو پتہ ہی نہیں کہ انھیں نبوت مل رہی ہے۔ صحیح بخاری میں لکھے وحی کی ابتدا کے یہ واقعات قرآن کے خلاف ہیں۔ کیونکہ قرآن فرماتا ہے کہ عیسیٰ ع نے آغوش مادر میں اپنی نبوت کی گواہی دی۔ حضرت موسیٰ ع کو جب نبوت کا منصب ملا تو وہ بھی دل برداشت نہیں ہوئے۔ بلکہ اللہ سے دعا مانگی اور انھیں کوئی ڈر لاحق نہیں ہوا۔ ہر نبی کو اپنی امت کے ہاتھوں بے شمار تکلیفیں اٹھانی پڑیں ہیں۔ لیکن ان تکلیفوں کی وجہ سے کس نبی نے خود کشی کی کوشش تو نہیں کی(نعوذباللہ)۔

 ان روایات کے مطابق معاذ اللہ رسول خدا(ص) وحی ٴ قرآن اور جبرئیل کے نزول کے بعد بھی اپنی نبوت میں شک کرتے تھے اور محسوس کر رھے تھے کہ دیوانے هوگئے ھیں یا  یہ خیال کررھے تھے کہ ان کے جسم میں جن حلول کر گئے ھیں، تاکہ ان کو کاہن یا شاعر بنادیں! جیساکہ جاھلیت میں یہ عقیدہ تھا اور حضرت(ص) چونکہ کاہن اور شعراء سے نفرت کرتے تھے لہٰذا چاھا کہ پھاڑ پر جا کر اپنے کو نیچے گرادیں، لیکن جناب خدیجہ اور ورقہ نے اس کو دور کیا، اور یا د دھانی کرائی کہ یہ مسئلہ جنوں سے مربو ط نھیں ھے

پس کیا یہ ممکن هوسکتا ھے کہ رسول(ص) پر وحی نازل هو اور آپ کو اپنی رسالت ونبوت تک کی خبر نہ هواور کاہن و راھب اس بات کی مدتوں پھلے سے خبررکھتے  تھے ؟!!
 

۔ کیا یہ ممکن ھے کہ خدا کسی کو مبعوث برسالت فرمائے اور اسے اس عظیم منصب کی علم و آگاھی نہ دے ۔ جو منصب رسالت پر فائز هو رھا ھے کیا وہ وحی ٴ الہٰی اورشیطانی الھام میں فرق نھیں کرسکتا؟ !جب کہ حضرت عیسیٰ گهوارہ میں ھی اپنی نبوت کا اعلان کرتے هوئے نظر آرھے ھیں

کیا بخاری گستاخ رسول ص نہیں؟ کہ اس نے وہ بات اپنی حدیث کی کتاب میں لکھی ہے جو من گھڑت ہے قرآن کے خلاف ہے
اور اس روایت میں صرف اور صرف رسول خدا ص کی توہین کی گئی ہے۔ وہ رسول ﷺ جو خودکشی کرنے سے اپنی امت کو منع فرما رہے ہیں کہ یہ فعل حرام ہے۔ تم نے اسی رسول ﷺ پر خودکشی کا الزام لگا لیا۔
کچھ لوگ بخاری کو بچانے کےلئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ابھی آپ ﷺ پر نبوت نازل نہیں ہوئی تھی اور خودکشی کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ تو ان لوگوں سے ہمارا سوال ہے کہ اس سے پہلے رسول ﷺ دین ابراہیمی کے پیروکار تھے اور اسی دین پر آپ کے اباو اجداد تھے۔ بتا سکتے ہیں کہ کیا خودکشی دین ابراہیمی میں جائز تھی؟

بہرحال یہ من گھڑت روایت رسول ﷺ کو ایک عام بشر ثابت کرنے کےلئے گھڑی گئی ہے۔ بخاری نے اپنی صحیح میں پوری کوشش کی ہے کہ ایک عام بشر اور رسول ﷺ میں کوئی فرق نہ چھوڑے۔
 صحیح بخاری کی یہ جھوٹی روایت اگر کوئی عام افراد پڑھ لیں تو زندگی کے کسی بھی موقع پر انھیں خودکشی کرنے میں حوصلہ افزائی ملے گی۔ کہ معاذاللہ رسول ﷺ نے بھی کوشش کی تو ہم تو عام انسان ہیں۔
 

No comments:

Post a Comment

Share This Knowledge