نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر نے انہیں بتاتے ہوئے فرمایا کہ سالم مولےٰ ابوحذیفہ مہاجرین اولین اور نبی کریم ﷺ کے دیگر اصحاب کی مسجد قبا میں امامت کا فریضہ ادا کیا کرتے تھے اور مقتدیوں میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید، اور عامر بن ربیعہ بھی ہوتے تھے۔
نتیجہ: اس موقعہ پر میں (سید عباس نقوی) نے اس روایت کو اس لئے پیش کیا تاکہ یہ ثابت ہوسکے کہ ضروری نہیں کہ نبی ص جسکو نماز پڑھانے کو کہیں وہ خلیفہ رسول ص بنادیا جائے اس لئے کہ اس سے پہلے بخاری صاحب نے کئی جگہ پر اس روایت کو نقل کیا ہے جس میں عائشہ سے روایت ہے کہ رسول ص نے اپنی بیماری کے وقت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اور اسی روایت کو دلیل خلافت ِ ابوبکر بنایا جاتا ہے حالانکہ اس روایت میں اگر یہ ہے کہ رسول ص نے ابوبکر کو نماز پڑھانے کےلئے کہا تو یہ بھی ہے کہ خود رسول ص بھی پیچھے پہنچ گئے اور ابوبکر کو مسند امامت سے ہٹنا پڑا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی ص نے زبانی طور پر امام بنایا اور عملی طور پر ہٹادیا، خیر اس روایت میں ابوحذیفہ کو مسجد قبا میں امامت کرتے دکھایا گیا ہے اور کئی صحابیوں کو ابوبکر اور عمر سمیت ان کے پیچھے نماز پڑھتے دکھایا گیا ہے اگر ابوبکر کے پیچھے لوگوں کا نماز پڑھنا ابوبکر کے خلیفہ ہونے کا ثبوت ہے تو جس غلام کے پیچھے ابوبکر اور عمر نے نبی ص کی زندگی میں نماز پڑھی ہو اسے خلافت کی فہرست سے کیوں نکال دیا گیا؟َ۔۔


No comments:
Post a Comment