Friday, 29 May 2015

عائشہ کا رسول ص کے ساتھ حیلہ کرنا





















عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ عائشہ نے فرمایا کہ نبی اکرم ص میٹھی چیزوں اور شہد کو پسند فرماتے تھے اور جب آپ نماز عصر پڑھ لیتے تو اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے قریب ہوجاتے چناچہ جب آپ ص حفصہ کے پاس تشریف لے گئے تو معمول سے زیادہ ٹھرے چناچہ میں(عائشہ) نے اس بارے میں آپ سے دریافت کیا تو مجھے بتایا کہ حفصہ کی کسی قومی عورت نے ان کےلئے شہد کی کپی بھیجی تھی اور انہوں نے رسول اللہ ص کو اس میں سے پلایا، میں (عائشہ) نے اپنے دل میں کہا کہ خدا کی قسم میں اس بارے میں ضرور کوئی حیلہ (مکاری) کروں گی پس میں نے سودہ سے اس کا ذکر کیا میں نے کہا جب حضور ﷺ آپ کے پاس تشریف لائیں اورقریب ہوں تو ان سے عرض کرنا کہ یارسول اللہ ص ! کیا آپ نے مغافیر (بدبو دار حلوہ) کھایا ہے پس حضور ﷺ انکار فرمائیں گے تو عرض کرنا کہ تو پھر یہ بدبو کیسی ہے؟ اور رسول اللہ ﷺ کو یہ بات گراں گزرے گی کہ ان بدبو آئے چناچہ حضور ﷺ یہ ضرور فرمائیں گے کہ مجھے حفصہ نے شہد کا شربت پلایا ہے ، پس عرض کرنا کہ شائد مکھی نے غرفط کا عرق چوسا ہوگا۔ اور میں بھی یہی کہوں گی اور اے صفیہ آپ بھی یہی کہنا جب حضور ﷺ سودہ کے پاس تشریف لائے تو سودہ کا بیان ہے کہ قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ حضور ﷺ ابھی درازے پر ہی تھے کہ آپ کی پاش خاطر  سے میرا ارادہ ہوا کہ میں وہ بات کہہ دوں جو آپ (عائشہ) نے مجھ سے کہی تھی جب رسول اللہ ﷺ قریب ہوئے تو میں عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہ ﷺ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ فرمایا کہ نہیں، میں عرض گزار ہوئی کہ پھر یہ بدبو کیسی ہے؟ فرمایا کہ مجھے حفصہ نے شہد کا شربت پلایا ہے میں نے کہا ہوسکتا ہے شہد کی مکھی نے غرفط چوسا ہو جب آپ میرے (عائشہ) پاس تشریف لائے تو میں نے بھی ایسا ہی کہا اور جب صفیہ کے پاس تشریف فرما ہوئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا ، پس جب حضور ﷺ حفصہ کے پاس تشریف لے گئے اور انہوں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ ! کیا میں آپ کو اس میں پلاوں ؟ فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ان کا بیان ہے کہ سودہ فرماتی سبحان اللہ ہم نے اسے حضور ﷺ کےلئے حرام کردیا میں (عائشہ) نے کہا خاموش رہئے







































نتیجہ روایت:   اہل نظر ذرا اندازہ لگائے کہ وہ ازواج رسول ﷺ جنہیں مومنین کی ماں کے لقب سے آج تک یاد کیا جاتا ہے وہ ایسی حرکتیں فرمارہی ہیں جو شاید عام مومنین کی بیویاں بھی مومنین کے ساتھ بھی نہ کریں۔ یقیناً سوتنوں کا حسد اپنی جگہ پر ہے مگر انصاف کریں کہ اس روایت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عائشہ اور انکی ہمنواں ازواج رسول ﷺ کے دلوں میں زرہ برابر بھی نہ خوف خدا تھا اور نہ احترام رسول ﷺ ۔ اور معتقدمین بخاری سے یہ بھی سوال ہے کہ ہم روایت کو پڑھ کر عائشہ اور ان کی ہمنواں ازواج کا احترام کس بنیاد پر کریں۔ 

اور روایت کے آخر میں سودہ کا یہ کہنا سبحان اللہ ہم نے اسے رسول ﷺ کےلئے حرام کردیا، یہ جملہ قابل غور اور دعوت فکر دیتا ہے کہ جو عورتیں رسول ﷺ کےلئے حلال چیز کو حرام بنادینے پر فخر کررہی ہوں اگر انہوں نے خدیجہ ع اور ان کی اولاد کی عداوت میں بعد رسول ﷺ شریعت کے دیگر احکام کے ساتھ کھلواڑ کئے ہوں تو حیرت کیا ہےَ؟

No comments:

Post a Comment

Share This Knowledge