Thursday, 28 May 2015

عائشہ کا حجرہ شیطان کی گزر گاہ ہے





















عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ص خطبہ دے رہے تھے تو آپ ص نے عائشہ کے حجرے کی جانب اشارہ کرکے فرمایا ، ادھر  فتنہ ہے۔ تین مرتبہ یہ بات دہرائی ، ادھر سے شیطان سیرت لوگ نکلیں گے۔


























نتیجہ:

اس روایت کے تبصرے سے واضح کرتے چلیں کہ صحیح بخاری کے جس ترجمہ کو پیش کیا جارہا ہے وہ مولانا اختر شاہ جہاں پوری کا کیا ہوا ہے اور انہوں نے عربی عبارت کے سامنے ترجمہ کرکے اردو عبارت لکھی ہے۔ انہوں نے کچھ الفاظ اس طرح لکھیں ہیں جیسے اس روایت میں (مشرق) اور (نجد وغیرہ) ۔ حالانکہ عربی عبارت میں نہ لفظ مشرق ہے نہ لفظ نجد وغیرہ ، وہاں صرف یہ ہے کہ حجرہ عائشہ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ وہاں فتنہ ہے اور وہاں شیطان کے سینگ ہیں لوگ ہیں، جسے ترجمہ کرنے والے نے لکھا ہے شیطان سیرت لوگ نکلیں گے، بہرحال بڑی واضح روایت ہے اب اس کے پڑھنے کے بعد اہل نظر کےلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ عائشہ نے مولا علی ع سے جنگ کیوں کی ؟ امام حسن ع کے جنازے پر تیر کیوں چلوائےَ؟ اس روایت کے مطابق حدیث رسول ص نے عائشہ کی حقیقت سے آگاہی پہلے ہی کرادی تھی۔ یہ روایت عائشہ کے عیب اور رسول ص کے علم غیب دونوں پر دلالت ہے

No comments:

Post a Comment

Share This Knowledge