ابوسلمہ روایت کرتے ہیں ، ابوہریرہ نے فرمایا میں تمہاری نماز رسول ص کی نماز کے قریب کردوں گا۔ چناچہ ابوہریرہ نماز ظہر اور عصر اور عشا کی آخری رکعتوں میں سمع اللہ لمن حمدہ ، کہنے کے بعد قنوت پڑھتے تھے مسلمانوں کے حق میں دعائے خیر اور کفار پر لعنت کرتے تھے۔
نتیجہ: ہمارے لئے صحیح بخاری نہ کبھی صحیح تھی نہ کبھی صحیح ہوگی مگر اس کو صحیح ماننے والوں کےلئے اس روایت کو پڑھنے کے بعد شیعوں پر اعتراض نہیں کرنا چائیے کہ شیعہ لعنت کیوں بھیجتے ہیں، اس روایت سے ثابت ہے کہ ابوہریرہ نماز میں قنوت میں لعنت پڑھ کر یہ ثابت کررہے ہیں کہ رسول اکرم ص نماز میں قنوت بھی پڑھتے تھے اور اس میں کفار پرلعنت بھی پڑھتے تھے۔ یعنی قنوت میں قاتلان حسین ع یا دشمنان اہل بیت پر لعنت پڑھی جائے تو یہ مطابق سیرت رسول ص ہے۔


No comments:
Post a Comment