عائشہ فرماتی ہیں کہ میں رسول ص اللہ کے کپڑے کی جنابت کو دھو ڈالتی پھر آپ ص نماز کےلئے نکلتے اور پانی کی تری آپ ص کے کپڑوں پر باقی رہتی۔
دوسری روایت: عائشہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ص کے کپڑے سے منی دھو ڈالتی پھر بھی اسکا ایک دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی
نتیجہ: معاذ اللہ ، اللہ معاف فرمائے ان روایتوں سے اہل فکر کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں۔ بس اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ اگر عام آدمی کےکپڑے پر اس طرح کے نشانات ہوں تو وہ نشست میں بیٹھنے سے کتراتا ہے اور بقول عائشہ معاذ اللہ رسول خدا ص اس عالم میں نماز کےلئے نکلتے تھے۔ ان روایتوں کو پڑھنے کے بعد ان روایتوں کی بیان کرنے والی کی شرم و حیا کا اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے۔


No comments:
Post a Comment