Tuesday, 26 May 2015

صحیح بخاری: وقت وفات نبی ص کا قلم مانگنا اور عمر بن خطاب کا روکنا








































نتیجہ: متعقدین بخاری! اگر اسی روایت کو آئینہ بنا کر دیکھیں اور اس روایت کے آئینہ پر ڈالی گئی تاویل کی گرد کو ہٹادیں تو بالکل صاف صاف منظر ہے۔ اللہ کے رسول ص کی خلاف ورزی کرنے کی جرات کرنے والے اور ان کے کلام کے مقصد کو موڑنے والے کوئی اور نہیں بلکہ عمر بن خطاب ہیں، جو ایک طرف یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ہمارے پاس قرآن ہے جو ہمیں کافی ہے، سوال یہ ہے کہ جس کتاب کا حوالہ دیکر وہ رسول ص کو قلم اور کاغذ دئے جانے سے روک رہے تھے اسی کتاب میں یہ آیت بھی موجود ہے کہ جو رسول ص دیں اسے لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جاو۔

اس روایت میں قرآن کو کافی کہنے والا قرآن کی اس آیت کے بعد بھی رسول ص کی اس تحریر کو(جو رسول ص تحریر کرنا چاہتے تھے) نہ خود لینا چاہتا ہے اور نہ لوگوں تک اس تحریر کو پہنچنے دینا چاہتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس سے رسول ص کو اذیت ہوئی اور اتنی اذیت ہوئی کہ رسول ص نے اپنے پاس سے چلے جانے کا حکم دیا۔ یہ اذیت دینے والے بھی عمر بن خطاب تھے نہ انہوں نے روکا ہوتا نہ نبی ص کے حجرے میں شور و غل ہوتا اور نہ رسول ص کو اذیت ہوتی۔ کچھ لوگ عمر کو بچانے کےلئے یہ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ وفات سے چار دن پہلے ہوا تھا آپ ص چاہتے تو ان چار دنوں میں یہ تحریر دوبارہ لکھ سکتے تھے لیکن نہیں لکھی۔۔۔ یہ بات ان لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ قرآن فرماتا ہے کہ رسول ص اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتا، وہی کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے۔ پس جب رسول ص کو اس تحریر لکھنے کی وحی کی گئی تو رسول ص نے قلم و کاغذ مانگا۔ لیکن جب اللہ کی طرف سے دوبارہ اس بارے میں رسول ص کو کوئی حکم ہی نہیں ہوا تو وہ کیونکر دوبارہ تحریر لکھتے۔ اللہ پاک کی طرف سے یہ ایک ایسا امتحان تھا جس میں ناکام ہونے والوں کے چہرے واضح ہوگئے۔ بہرحال اس روایت سے ثابت ہے کہ رسول ص کو اذیت عمر بن خطاب کے سبب پہنچی وہی جو قرآن کو کافی کہہ رہے تھے۔ حالانکہ اسی قرآن میں یہ بھی آیت موجود ہے کہ جو رسول اللہ ص کو اذیت پہنچائے وہ اللہ کی لعنت اور عذاب دونوں کا مستحق ہے۔ عمر بن خطاب کے اس عمل سے رسول ص کو اذیت پہنچنے کے ساتھ ساتھ بقول ابن عباسؓ یہ ایک بہت بڑی مصیبت تھی کیوں کہ وہ تحریر جو نبی ص لکھنا چاہتے تھے وہ نہ لکھی جاسکی۔ اور ظاہر ہے اگر وہ تحریر لکھ دی گئی ہوتی تو گمراہی نہ ہوتی۔ نتیجہ یہی ہے کہ گمراہی کا سبب نبی ص کی تحریر کو روک دیا جانا ہے۔ اور تحریر کو روکنے کا سبب کوئی اور نہیں بلکہ یہی جناب فاروق تھے۔ اہل عقل سوچیں کہ مسلمانوں کی گمراہی کا ذمہ دار قیامت تک کون رہے گا؟

No comments:

Post a Comment

Share This Knowledge