عائشہ نے فرمایا کہ تکلیف کے دوران ہم نے حضور ص کے منہ میں دوائی رکھ دی تھی۔ جب کے آپ ہمیں دوائی نہ رکھنے کا اشارہ فرماتے رہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آپ ص کو افاقہ ہوا تو آپ ص نے فرمایا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میرے منہ میں دوائی نہ رکھو، ہم عرض گزار ہوئے کہ ہم نے اسے مریض کی دوا سے نفرت پر محمول کیا تھا، فرمایا کہ گھر میں کوئی باقی نہ رہے بلکہ سب کے منھ میں دوائی ڈالو اور میں دیکھوں گا ماسوائے عباس ؓ کے کیوں کہ وہ تمہارے درمیان موجود نہ تھے۔
نتجہ: بہت ہی پر اسرار سے روایت ہے اور ایسی ہی روایتیں بخاری میں کئی جگہوں پر ہیں مثال کے طور پر دوسری جلد کتاب المغازی حدیث نمبر ۱۵۷۶ ص ۷۰۲ پر بھی یہ روایت موجود ہے کہ رسول ص نے منع کررہے ہیں اور حضرت عائشہ جبراً انھیں دوا دے رہیں ہیں اور دوا کے کھانے کے بعد پھر رسول ص کا ناراضگی کا مظاہرہ کرنا اور پھر یہ کہنا کہ عباس کو چھوڑ کر سب کو یہ دوا دو، روایت کے لفظوں میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے مریض دوا سے ڈرتا ہے ویسے ہی معاذاللہ رسول اللہ ص ڈر رہے تھے۔ حالانکہ اگر بات کسی اور کی ہوتی تو وجہ قابل قبول بنتی لیکن اللہ کے رسول ص کا عام مریض جیسی حرکت کرنا عقل گوارہ نہیں کرتی۔ یقیناً وہ دوا کے علاوہ کوئی مضر شی تھی ورنہ رسول ص کا یہ کہنا کہ عباس کو چھوڑ کر سب کو پلاو اس بات پر دلالت ہے کہ اگر یہ دوا ہے تو تم بھی کھا کر دکھاو؟ بہر حال روایت پڑھنے کے بعد اس دوا کو اگر ہم زہر سے تعبیر کریں تو ہماری غلطی نہیں ہے کیوں کہ روایت ہماری نہیں ہے امام بخاری کی ہے اور راوی بھی ہمارا نہیں ہے بلکہ عائشہ ہے۔


No comments:
Post a Comment