نبی کریم ص نے فرمایا: بیشک میں نے تو پکا ارادہ کرلیا تھا کہ ابوبکر اور ان کے صاحب زادے کو بلا کر خلافت کا عہد لوں تاکہ کہنے والے کہتے رہیں اور تمنا کرنے والے کرتے پھریں۔ پھر میں نے دل میں کہا ، اللہ تعالیٰ اسے نہیں مانے گا اور مسلمان اس میں رکاوٹ ڈالین گے، یا اللہ تعالیٰ اس میں رکاوٹ ڈالے گا اور مسلمان نہیں مانیں گے۔
نتیجہ: یوں تو اس حدیث کو اس لئے نقل کیا گیا ہوگا تاکہ ابوبکر کو حقدار خلافت بتایا جاسکے۔ مگر یہ بالکل طئے بات ہے کہ اہل بیت رسالت کی عداوت عقلوں کو کھا جاتی ہے۔ چناچہ ابوبکر کی خلافت تو ثابت نہیں ہوئی ہاں مگر عائشہ سے کچھ اور واقفیت ہوگئی کہ وہ رسول ص سے کہہ رہی ہیں کہ آپ ص چاہتے ہیں کہ میں مرجاوں اور اگر ایسا ہوجائے گا تو آپ دوسری بیویوں کے ساتھ شام گزاریں گے۔(استغفراللہ) وہ افراف جو یہ دلیلیں پیش کیا کرتے ہیں کہ رسول کریم ص عائشہ کو قیامت کی حد تک چاہتے تھے، وہ اس جملہ کو پڑھنے کے بعد کیا فیصلہ دیں گے اور وہ جس محبت کا دعویٰ پیش کرتے ہیں وہ صحیح بخاری کی اس اس روایت سے کیسے ثابت ہوگی۔ اور اگر کسی طور پر وہ رسول ص کا عائشہ کو چاہنا ثابت بھی کردیں تو عائشہ کی رسول ص سے محبت پر یقین کیسے ثابت کریں گے۔ بہر حال روایت ابوبکر کی خلافت کو ثابت کرنے کےلئے گڑھی گئی۔ لیکن کچھ نہ دوا نے کام دیا۔ کیوں کہ روایت سے خلیفہ بننا تو ثابت نہیں ہوتا ، بلکہ یہ ضرور ثابت ہورہا ہے کہ رسول ص نے ابوبکر کو خلیفہ اس لئے نہیں بنایا کیوں کہ اگر وہ بنادیں گے تو اللہ انہیں نہیں مانے گا اور رکاوٹ ڈالے گا۔ کیا امام بخاری بتائیں گے کہ آخر اللہ کا مزاج شیعوں جیسا کیوں ہے؟


No comments:
Post a Comment