انس بن مالک روایت کرتے ہیں ہم رسول اللہ ص کے ہمراہ ابو یوسف لوہار کے گھر گئے جو جناب ابراہیم(فرزند رسول ص ) کی انا کا شوہر تھا۔ رسول اللہ ص نے ابراہیم ع کو لیکر پیار کیا انہیں سونگھا بعد ازآں ابو یوسف لوہار کے پاس گئے اور ابراہیم ع دم توڑ رہے تھے، رسول ص کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، عبدالرحمٰن بن عوف بولے اللہ کے رسول ص آپ اور رورہے ہیں؟۔۔! فرمایا: اے عوف کے بیٹے! یہ (گریہ) تو شفقت و رحمت ہے، پھر آئے تو رسول ص نے فرمایا آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ ہے مگر زبان سے وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہے اور اے ابراہیم ع! تمہارے حجر میں ہم غمگین ہیں۔
نتیجہ: مفتیان بدعت اس روایت کو پڑھنے کے بعد یا تو وہ قلم توڑدیں جس سے امام حسین ع پر رونے کو بدعت لکھا ہے، یا اپنی آنکھیں پھوڑلیں جس سے یہ روایت دیکھی ہے اور یا اس صحیح بخاری کو غلط کہہ دیں ، یا امام حسین ع کی بارگاہ میں معافی مانگیں ورنہ حشر میں عذاب جہنم ان کا منتظر ہے کیوں کہ اس روایت میں صرف یہی نہیں ہے کہ پیغمبر ص اپنے فرزند پر رورہے ہیں بلکہ ابن عوف کے ٹوکنے پر گریہ کو رحمت اور شفقت کہہ رہے ہیں۔ سبحان اللہ! رسول ص رونے کو رحمت کہیں اور مفتی رونے کو بدعت کہیں۔ مسلمان فیصلہ کریں وہ رسول ص کی پیروی کریں گے یا ان مفتیوں کی۔
روایت میں آگے پیغمبر ص فرما رہے ہیں کہ آنکھ اشکبار ہے دل غمگین ہے۔ اس کے بعد کہہ رہے ہیں زبان سے وہی کہیں گے جس سے رب راضی ہے۔ اب ذرا غور سے پڑھئیے آنسو بہانے کے بعد زبان مبارک سے کیا فرماتے ہیں اے ابراہیم ع تمہارے حجر میں ہم غمگین ہیں یعنی اپنے فرزند کو پکار کر غم کا مطاہرہ کیا۔ اسی کو تو نوحہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا اے ابراہیم ع ! ہم تمہارے حجر میں غمگین ہیں اور شیعہ کہتے ہیں اے (یا) حسین ع ! ہم آپ کے سوگ میں غمگین ہیں۔ یعنی جو نبی ص نے کہا رب اس کے کہنے پت راضی اور جو شیعہ کہتے ہیں اس پر بھی راضی
روایت میں آگے پیغمبر ص فرما رہے ہیں کہ آنکھ اشکبار ہے دل غمگین ہے۔ اس کے بعد کہہ رہے ہیں زبان سے وہی کہیں گے جس سے رب راضی ہے۔ اب ذرا غور سے پڑھئیے آنسو بہانے کے بعد زبان مبارک سے کیا فرماتے ہیں اے ابراہیم ع تمہارے حجر میں ہم غمگین ہیں یعنی اپنے فرزند کو پکار کر غم کا مطاہرہ کیا۔ اسی کو تو نوحہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا اے ابراہیم ع ! ہم تمہارے حجر میں غمگین ہیں اور شیعہ کہتے ہیں اے (یا) حسین ع ! ہم آپ کے سوگ میں غمگین ہیں۔ یعنی جو نبی ص نے کہا رب اس کے کہنے پت راضی اور جو شیعہ کہتے ہیں اس پر بھی راضی


No comments:
Post a Comment