رسول اللہ ص نے فرمایا: سن لو میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے فرشتے ان کو پکڑ کر بائیں طرف والے دوزخیوں میں لے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا پروردگار یہ تو میرے ساتھ والے(صحابی) ہیں۔ ارشاد ہوگا تم نہیں جانتے انہوں نے تمہاری وفات کے بعد کیا کیا کرتوت کئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارشاد ہوگا یہ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل اسلام سے پھر گئے جب تو ان سے جدا ہوا۔
نتیجہ: ہمارے موقف کےلئے اور تلاش حق کرنے والوں کےلئے اتنی واضح روایت ہے جسکی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں، بہت صاف لفظوں میں رسول ص فرمارہے ہیں کہ کچھ لوگ بائیں جانب یعنی جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے، وہ کوئی اور نہیں رسول ص کے کچھ صحابی ہوں گے، حالانکہ مترجم نے لکھا ہے میرے ساتھی ، میرے ساتھی عربی عبارت میں صاف صاف ہے اصحابی ۔ اصحابی اور ان کے جہنمی ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ وفات رسول ص کے بعد وہ کافر ہوکر کفر کی طرف پلٹ گئے تھے۔ اب بھی محبان صحابہ کی آنکھیں نہ کھلیں تو یقیناً ان کے دلوں پر محریں لگی ہیں


No comments:
Post a Comment