نتیجہ: ملاحظہ فرمائیے ۱ عائشہ کے گھر میں گانے گائے جارہے ہیں ۲ معاذاللہ وہ رسول ص جس پر روکنا فرض ہے وہ چپ ہے ۳ ابوبکر کہہ رہے ہیں کہ رسول ص کی موجودگی میں شیطانی ساز ۴ اس پر رسول ص کہہ رہے ہیں جانے دو۔ غور کیا آپ نے ابوبکر کا قول ثبوت ہے کہ عائشہ کے گھر شیطانی ساز ہورہا ہے مگر معاذاللہ رسول اللہ ص منع کرنے کے بجائے منع کرنے والے کو روک رہے ہیں۔ کیا نتیجہ نکالا جائے جب رسول ص کی موجودگی میں عائشہ شیطانی ساز سننے سے بعض نہ آئیں تو انکے بعد شیطانی کاموں میں کیا بعض آسکتی تھیں۔ خیر اسی روایت میں دوسرا واقعہ عید کا ہے کہ معاذاللہ اللہ کا رسول ص اپنی زوجہ کو تماشہ دکھا رہے ہیں۔ میرا رخسار نبی ص کے دوش پرتھا۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ تماشہ اکہرا نہیں تھا دہرا تھا ایک طرف تماشہ دکھانے والے تماشہ دکھا رہے تھے دوسری طرف خود عائشہ نبی ص کے دوش پر اپنا رخسار رکھ کر تماشہ دکھانے والوں کو تماشہ دکھا رہیں تھیں
اس بلاگ میں ہم نے اعترافات صحیح بخاری کتاب سے مدد لی ہے۔ جس کے مولف سید عباس ارشاد نقوی ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک قرآن کے بعد اس صحیح کتاب سے کچھ حقائق بھی پیش کیے ہیں۔ اور وہ روایات جن میں رسول اللہ ص کی توہین کی گئی ہے کی نشاندہی کی ہے۔ اس بلاگ کا مقصد فتنہ و فساد پھیلانا نہیں۔ بلکہ ان لوگوں کو جواب دینا ہے جو شیعہ کو گستاخ ام المومنین و صحابہ کہتے ہیں۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ سب کچھ حقائق ان کی اپنی ہی کتاب صحیح بخاری میں لکھے ہیں۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)


No comments:
Post a Comment