Wednesday, 27 May 2015

صحیح بخاری: شہید پر رونا جائز ہے





















جابر ابن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ جب میرے والد شہید کردئیے گئے تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر رونے لگا،مجھے منع کیا گیا لیکن رسول اللہ ص نے مجھے منع نہیں فرمایا۔ میری پھوپھی حضرت فاطمہ بھی رونے لگیں۔ نبی کریم ص نے فرمایا تم روتی ہو یا نہیں روتی ہو لیکن فرشتے اپنے پروں سے برابر ان پر سایہ فگن رہیں گے یہاں تک کہ تم انھیں اٹھاو گے۔







































نتیجہ: امام حسین ع پر رونے کو بدعت بتانے والے ذرا اس روایت کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ کچھ لوگ جابر ؓ کو رونے سے روک رہے تھے مگر رسول اللہ ص نے نہیں روکا، نہ روکنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ تم جس پر رورہے ہو ، فرشتے اس پر اپنے پروں سے سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اب وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ رونے سے میت پر عذاب ہوتا ہے۔ ذرا اپنے آپ پر غور کریں اور ایسے عقائد رکھنے کے بعد فیصلہ کریں کہ وہ رسول اللہ ص کی سیرت سے کتنا دور ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Share This Knowledge