Tuesday, 26 May 2015

صحیح بخاری: تیسرے خلیفہ نے اذان میں اضافہ کردیا۔


زہری روایت کرتے ہیں  ، میں نے یزید بن سائب کو کہتے ہوئے سنا کہ جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، رسول اللہ ص ، ابوبکر اور عمر کے زمانے تک اسی طرح ہوا جب خلافت عثمان شروع ہوئی تو لوگ بہت زیادہ ہوگئے تو عثمان نے جمعہ کے دن تیسری اذان کہنے کا حکم فرمایا۔ پس وہ زورا کے مقام پر کہی جاتی اور یہی ہمیشہ معمول قرار پایا










































نتیجہ: صحیح بخاری کی اس سلسلے کی یہ واحد روایت نہیں ہے بلکہ اسی کتاب الجمعہ میں یہ روایت حدیث نمبر ۸۳۶۔۸۳۴ پر بھی موجود ہے بہرحال نتیجہ ایک دم واضح ہے کہ ہم شیعوں کو بدعت کا فتویٰ دینے والے اور ہم پر کلمہ بڑھا لینے کا الزام لگانے والے ،اپنے تیسرے خلیفہ کو کیا کہیں گے جنہوں نے ایک اذان کا اضافہ کرلیا اور وہ اذان جو نہ رسول ص کے دور میں ہوئی نہ ابوبکر اور عمر کے دور میں ہوئی۔ اس روایت سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ تیسرے خلیفہ نہ سیرت رسول ص کے مطابق تھے نہ سیرت شیخین کے مطابق تھے

No comments:

Post a Comment

Share This Knowledge